چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے تیسرے روز بھی سوگ رہا اور پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ایسے افراد گرفتار کیے گئے ہیں جو اس حملے میں کسی حوالے سے ملوث ہو سکتے ہیں اور ان سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ تینوں افراد کہاں سے گرفتار کیے گئے ہیں اور یہ کون لوگ ہیں۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ حملے کے بعد سے چارسدہ کے علاوہ خیبر ایجنسی اور پشاور میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے مشترکہ سرچ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس بارے میں چارسدہ کے ضلع پولیس افسر سہیل خالد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
سہیل خلاد کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں کا افغانستان سے رابطہ تھا۔اب ان حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی کے حوالے سے اب مزید ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یونیورسٹی کے ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور عقبی دیواروں سے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئے اور مختلف مقامات پر پھیل گئے تھے۔
دوسری جانب باچا خان یونیورسٹی کے محل وقوع پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں جس کے تین طرف گنے کے کھیت ہیں۔
سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی کوشش تھی کہ وہ پشتو ڈیپارٹمنٹ اور انتظامی بلاک میں داخل ہوں لیکن وہاں موجود یونیورسٹی کے محافظوں نے فائرنگ کی جس سے حملہ آور دوسرے مقامات پر چلے گئے تھے۔
Image captionباچا خان یونیورسٹی کے محل وقوع پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں جس کے تین طرف گنے کے کھیت ہیں
یونیورسٹی میں کل سکیورٹی گارڈز کی تعداد 54 تک ہے اور ایک وقت میں 15 کے لگ بھگ محافظ موجود ہوتے ہیں۔
ان کے پاس صرف سات، سات گولیاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں نو کیمرے نصب ہیں لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ غیر معیاری ہیں۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین کے گھر آج وزیراعلیٰ پہنچے تو پروفیسر کے بھائیوں نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے سامنے سخت غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر حکومت نہیں کر سکتے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔
اسی طرح گذشتہ روز سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے سامنے بھی لواحقین نے سخت غصے کا اظہار کیا تھا۔
پشاور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں چار دنوں میں یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔
تین روزقبل پشاور کی سرحد کے قریب جمرود کے علاقے میں بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ چارسدہ میں یونیورسٹی پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 21 ہو گئی ہے، جبکہ 17 زخمی تھے جن میں ایک پولیس اہلکار کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی گئی ہے۔
جمعے کو پشاور میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے حوالے سے صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی کی سکیورٹی کے علاوہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔

Post a Comment