سینسر دماغ کے درجہ حرارت اور اندرونی دباؤ کو نوٹ کرتا ہے اور وائرلیس کے ذریعے معلومات باہر بھیجتا ہے۔
اربانا: کسی حادثے یا چوٹ کی صورت میں دماغ کے اندر نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے طویل اور پیچیدہ اسکین اور ٹیسٹ کیے جاتے ہیں لیکن اب چاول کے ایک دانے جیسا سینسر بنایا گیا ہے جو دماغ کے دباؤ اور درجہ حرارت کو نوٹ کرکے اپنا کام مکمل کرکے ازخود گھل کر ختم ہوجائے گا۔
امریکی یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے اس جدید سینسر کو تیار کیا گیا ہے جو دماغ کی چوٹ کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتا ہے جو اندرونی درجہ حرارت اور دباؤ کی صورت میں ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغی صحت کو جاننے کے لیے یہ دونوں چیزیں بہت اہم ہیں کیونکہ چوٹ کی صورت میں دماغ میں یہی دو اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق فی الحال ان دونوں اشیا کو ناپنے کے لیے کھوپڑی کاٹ کر اندر سینسر لگانے پڑتے ہیں جو باہر ایک بڑے مانیٹر سے جڑے ہوتے ہیں، اس سے مریض کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور انفیکشن کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیکان اور پولیمر سے بنا یہ سینسر دماغ میں جاکر کسی شے کو نقصان پہنچائے بغیر خودبخود ختم ہوجاتا ہے لیکن اسے پہلے ساری معلومات کو وائرلیس کے ذریعے باہر موجود ریسیور تک بھیج دیتا ہے، یہ چھوٹا سینسر آج کے مہنگے ترین سینسر کی طرح ہی درست معلومات دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سینسر کا ایک نمونہ بنالیا گیا ہے لیکن سینسر پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے جس سے اگلے 5 سے 10 سال کے دوران یہ سینسر عام دستیاب ہوسکے گا۔

Post a Comment